حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمہوریہ آذربائیجان کے متعدد اسکولوں میں طالبات نے ایسی پابندیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے جو تعلیمی اداروں میں مسلمان لڑکیوں کے حجاب پہننے کے حق کو نظرانداز اور اسے پامال کرتی ہیں۔

شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، بعض شہروں میں طالبات نے قطع نظر اس کے کہ وہ خود حجاب کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں، اپنی باحجاب ہم جماعت طالبات کی حمایت کی اور ان پابندیوں کے خلاف مؤقف اختیار کیا ہے۔
متعدد طالبات نے احتجاجاً کلاسوں میں جانے سے انکار کر دیا، جبکہ کچھ دوسری طالبات اپنی باحجاب دوستوں اور ہم جماعتوں کے ساتھ کھڑی رہیں، تاکہ ان سے اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔
ان اقدامات کی اہمیت اس بات میں ہے کہ ان پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں صرف باحجاب لڑکیاں ہی شامل نہیں ہیں، بلکہ دیگر طالبات بھی موجود ہیں جو مذہبی عقائد کی بنیاد پر اپنے ہم عمروں کے حقوق محدود کرنے کو ناقابلِ قبول سمجھتی ہیں۔ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ صرف لباس کی نوعیت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مذہبی عقائد کے احترام، انسانی وقار اور عقیدہ و مذہب کی آزادی کے حق جیسے امور بھی شامل ہیں۔
مسلمانوں کے لیے حجاب محض ایک ظاہری علامت نہیں، بلکہ دینی احکام پر عمل اور ان کے اعتقادات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی وجہ سے ایسی پابندیاں، جو مسلمان لڑکیوں کو اپنے دینی عقائد کے مطابق تعلیم حاصل کرنے سے روکتی ہیں، اہلِ ایمان میں شدید تشویش کا باعث بنی ہیں۔

ان رپورٹس میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اپنی ہم جماعتوں کی حمایت کرنے والی طالبات کی آواز سنی جائے گی اور جمہوریہ آذربائیجان کی مسلمان لڑکیاں تعلیم اور اپنے دینی عقائد کی پابندی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی صورتِ حال سے دوچار ہوئے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی۔
آذربائیجان میں حجاب کا معاملہ تعلیمی اداروں کے اندر ایک بڑھتے ہوئے بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حجاب کرنے والی معلمات اور طالبات کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جبکہ شائع ہونے والی ویڈیوز میں لڑکیوں کو اسکولوں کے باہر انتظار کرتے اور معلمات کو آنکھوں میں آنسو لیے اپنی شاگردوں سے الوداع کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ان واقعات نے ایک بار پھر عقائد کی آزادی اور تعلیم کے حق سے متعلق بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اسکول کے لباس کو لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔

آذربائیجان کی کابینہ نے گزشتہ 21 ستمبر کو اسکولوں میں لباس سے متعلق قوانین میں ترامیم کی منظوری دی۔ حکام ان اقدامات کو عمومی تعلیم میں سیکولر پہلو کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت اسکول کے یونیفارم میں کسی بھی اضافی چیز کے استعمال یا ایسے لباس کی ممانعت ہے جو اسکول کے یکساں یونیفارم سے مطابقت نہ رکھتا ہو یا حکام کے مطابق، تعلیم کے سیکولر ہونے کے اصول کی خلاف ورزی کرتا ہو۔

یہ ترامیم آذربائیجان کے صدر الہام علی اف کے گزشتہ ماہ میں جاری کیے گئے حکم کے بعد سامنے آئیں، جس میں سرکاری اسکولوں میں یکساں یونیفارم نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم، ایسے ملک میں جہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، اس حکم پر عمل درآمد نے اسکول کے لباس کی پابندیوں کی حدود اور حجاب کی آزادی سے ان کے تعلق کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آنسو اور محرومیاں
معلمات اور طالبات کے آنسو محض رخصت ہونے کے عارضی لمحات نہیں تھے، بلکہ ان مناظر نے اسکولوں کے اندر جاری بحران کی گہرائی کو ظاہر کیا۔ حجاب کرنے والی لڑکیوں اور معلمات کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس صورتِ حال نے احتجاج اور شدید ردِعمل کو جنم دیا اور عقیدے کی آزادی اور تعلیم کے حق کے مسئلے کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
آذربائیجان کی ایک معلمہ نے بتایا کہ انہیں اپنا اسکارف اتارنے کے لیے کہا گیا، جس کے بعد انہوں نے آنکھوں میں آنسو لیے اپنی شاگردوں کو الوداع کہا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حجاب ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے دینی اصولوں سے دست بردار ہوئے بغیر اپنے حقوق اور بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کے دفاع کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اس کشمکش کے اثرات صرف معلمات تک محدود نہیں رہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے باحجاب طالبات کو اسکول میں داخل ہونے سے روکے جانے کی خبریں دیں۔ کارکنوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر میں ان لڑکیوں کو دکھایا گیا ہے جو حجاب کی وجہ سے کلاسوں میں داخل نہ ہو پانے کے بعد اسکول کی دیواروں کے باہر یا اس کے صحن میں انتظار کرتی رہیں۔
اسکولوں میں احتجاج
اس کشمکش کے بڑھنے کے ساتھ ہی متعدد اسکولوں کی طالبات نے اپنی ان ہم جماعتوں اور معلمات سے یکجہتی کا اظہار کیا جنہیں سر ڈھانپنے کی وجہ سے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ بعض طالبات نے حجاب پہننے کی آزادی کے مطالبے میں نعرے بھی لگائے۔
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے بھی باحجاب طالبات کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کیں اور اس بات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا کہ مذہبی لباس کو لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض پوسٹوں میں بتایا گیا کہ طالبات کو حجاب کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ہفتے کے آغاز تک کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان پر دباؤ ڈالے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے، جن میں یہ تنبیہ بھی شامل تھی کہ حجاب پر قائم رہنے سے ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔
قرہ باغ جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی والدہ کو حجاب کی وجہ سے اسکول میں داخل ہونے سے روکنے کی خبر نے بھی سوشل میڈیا صارفین کے غم و غصّے کو بڑھا دیا ہے۔
حجاب اور عقیدے کی آزادی پر بحث
ان واقعات کے دوران سوشل میڈیا پر اس اقدام پر تنقید میں شدت آگئی اور اسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ’’آذربائیجان میں عقیدے کی آزادی کو محدود کرنا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کی وجوہات واضح کرنے اور طالبات و معلمات کے اس حق کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مذہبی شعائر پر عمل کر سکیں اور اس کے نتیجے میں انہیں مسترد کیے جانے یا تعلیم سے محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بعض بلاگرز کا خیال تھا کہ حجاب پہننے کو لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کا بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اور عقیدتی حق ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہونے چاہییں اور اسکول کے قوانین کو طالبات کے مذہبی انتخاب کی بنیاد پر انہیں باہر کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
یہ بحث خواتین کے حقوق سے متعلق تنظیموں کے کردار تک بھی پہنچ گئی
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ان تنظیموں سے سوال کیا کہ اسکولوں میں باحجاب خواتین اور طالبات کے داخلے پر پابندی کے معاملے میں ان کا مؤقف کیا ہے؟ ان کا خیال تھا کہ خواتین کے حقوق اور ان کے انتخاب کی آزادی کا دفاع ان خواتین کو بھی شامل کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی مرضی سے حجاب کا انتخاب کیا ہے۔
واضح رہے حجاب کی بحث میں شدت آنے کے ساتھ ہی صارفین نے آذربائیجان میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔ خاص طور پر انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر ایسی ایپلی کیشنز پر انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی شکایات سامنے آئیں جو ویڈیوز کے تبادلے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔










آپ کا تبصرہ